... علم، ہنر اور آسمانی بلندیوں کے مسافر: حضرت ادریس علیہ السلام

ads

علم، ہنر اور آسمانی بلندیوں کے مسافر: حضرت ادریس علیہ السلام



علم، ہنر اور آسمانی بلندیوں کے مسافر: حضرت ادریس علیہ السلام


کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ پہلا انسان کون تھا جس نے تاریخ میں پہلی بار سیاہی میں ڈوبا ہوا قلم اٹھایا اور لفظوں کو چمڑے یا قرطاس پر اتارا؟ وہ کون سی شخصیت تھی جس نے انسانوں کو درندوں کی کھالیں پہنا کر جنگلی طرزِ زندگی سے نکال کر سوت اور کپڑے سے جسم کو ڈھانپنے کی تہذیب سکھائی؟


ذرا تصور کیجیے اس دور کا جب دنیا ابھی جہالت اور لاشعوری کی تاریکیوں میں سانس لے رہی تھی! حضرت شیث علیہ السلام کے بعد، جب انسانی آبادی پھیلنے لگی، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔

مسند احمد (حدیث: 21534) اور صحیح ابن حبان میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے:"سب سے پہلے جس نے قلم سے لکھا، وہ ادریس علیہ السلام تھے۔"


صرف یہی نہیں، بلکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آپؑ پہلے انسان تھے جنہوں نے کپڑے سینے، ناپ تول کے پیمانے بنانے، اور ستارہ شناسی و حساب کے علوم کو مرتب کرنے کی ابتدا کی۔


قرآنِ مجید سورۃ مریم (آیات 56-57) میں آپؑ کی جلالت اور ان کے رفیع الشان مقام کی گواہی یوں دیتا ہے:"وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا ۞ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا"(اور کتاب میں ادریس کا ذکر کیجیے، بے شک وہ بہت سچے نبی تھے، اور ہم نے انہیں بلند مقام پر اٹھایا)۔


یہیں سے ان کے اس پراسرار اور عظیم الشان آسمانی سفر کی شروعات ہوتی ہے۔ صحیح بخاری (حدیث: 349) اور صحیح مسلم میں واقعہِ معراج کے ضمن میں یہ نصِ صریح موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شبِ معراج چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات فرمائی۔


لیکن وہ زندہ حالت میں آسمان پر کیسے اٹھائے گئے اور فرشتوں سے ان کے تعلق کا کیا معمہ تھا؟ تفاسیر (مثلاً تفسیر ابن کثیر اور تفسیر طبری) میں حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک فرشتے نے اپنے پروں پر بٹھا کر آپؑ کو آسمانوں کی سیر کرائی۔

[یہاں علمی و دینی دیانت کے تحت یہ بتانا لازمی ہے کہ چوتھے آسمان پر ملک الموت کا آپؑ کی روح قبض کرنا، یا آپؑ کا جنت کی سیر کر کے واپس نہ آنے کا قصہ، اور اسی طرح یہودیت و عیسائیت کی گمشدہ کتاب "کتابِ اخنوخ" (Book of Enoch) میں درج وہ پراسرار داستانیں جن میں ادریسؑ (اخنوخ) کی فرشتوں کے ساتھ کائنات کی سیر، فلکیاتی نقشے اور گرائے گئے فرشتوں (Watcher Angels) کے راز بیان ہوئے ہیں، یہ سب خالصتاً "اسرائیلیات" ہیں؛ محدثین کے ہاں ان کا درجہ محض قدیم تاریخی روایات کا ہے، قطعی دین کا نہیں۔


حضرت ادریس علیہ السلام کا وجود علم، صنعت اور روحانیت کا ایک ایسا سنگم تھا جس نے انسانی سوچ کو غاروں سے نکال کر علم و حکمت کی شمع بخشی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ رب سے تعلق صرف غاروں یا محراب و منبر تک محدود نہیں، بلکہ قلم اٹھانا، سائنسی و فلکیاتی علوم پر غور کرنا اور کپڑا بننے جیسا ہنر بھی خالق کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔


آج جب ہم ہاتھ میں قلم تھامتے ہیں یا کوئی کتاب کھولتے ہیں، تو ہمیں اس پہلی روشنی کو یاد رکھنا چاہیے جو ادریسؑ کے ذریعے اس تاریک دنیا میں پھیلی تھی۔

 

Post a Comment

0 Comments