سجل علی کے ساتھ ڈرامے پر تنقید، ہمایوں سعید کا ردِعمل سامنے آگیا
پاکستان کے معروف اداکار اور پروڈیوسر ہمایوں سعید
نے اپنے حالیہ ڈرامے پر ہونے والی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہ
ے کہ وہ ایسی باتوں پر زیادہ غور نہیں کرتے اور نہ ہی دل پر لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسا وہ اپنا کام کرتے ہیں، ویسے ہی تنقید کرنے والے بھی اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ہمایوں نے کہا، "تنقید کرنے والے دراصل ہماری انڈسٹری کا ہی حصہ ہیں۔ ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، لیکن مداحوں سے گزارش ہے کہ اختلافِ رائے کا اظہار تہذیب کے دائرے میں رہ کر کریں اور گالم گلوچ سے گریز کریں۔”
یاد رہے کہ ہمایوں سعید ان دنوں اپنی نئی پروڈکشن "میں منٹو نہیں ہوں” میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ڈرامے میں ان کا کردار نہایت پیچیدہ اور ان کی ذاتی شخصیت سے مختلف ہے، جو ان کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔ انہوں نے سجل علی، صنم سعید اور صائمہ نور جیسے فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کو "اپنی خوش نصیبی” قرار دیا۔
محبت اور شادی میں مالی حیثیت اہم ہے، ہمایوں اشرف
انٹرویو کے دوران ہمایوں سعید نے ماہرہ خان کے ساتھ اپنی حالیہ فلم "لو گُرو” کا بھی ذکر کیا، جو ایک رومانوی کامیڈی فلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے باکس آفس پر کامیابی سب سے اہم ہوتی ہے، جب کہ ان کی ساتھی اداکارہ ماہرہ خان کے لیے محبت زندگی کا اصل مقصد ہے۔
ہمایوں سعید کا یہ متوازن اور بردبار انداز ان کے مداحوں کو ایک مرتبہ پھر یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ تنقید کو مثبت انداز میں لیتے ہیں اور فن سے جڑے ہر پہلو کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
0 Comments