اس لیے ضروری ہے کہ بوریت کی نوعیت اور اس کے دورانیے کو سمجھا جائے۔
عام طور پر بوریت ایک وقتی کیفیت ہوتی ہے، جو اس وقت محسوس ہوتی ہے جب انسان کو کوئی دلچسپ یا بامقصد کام نہ ملے۔ جیسے چھٹی کا دن ہو اور کچھ خاص کرنے کو نہ ہو، تو انسان بور محسوس کرتا ہے۔ لیکن جیسے ہی کوئی نئی سرگرمی یا دلچسپی ملتی ہے، موڈ بہتر ہو جاتا ہے اور بوریت ختم ہو جاتی ہے۔ اسے "عام بوریت” کہا جا سکتا ہے، جو عارضی اور نقصان دہ نہیں ہوتی۔
اس کے برعکس، ڈپریشن والی بوریت صرف ایک وقتی بےزاری نہیں بلکہ ایک مسلسل خالی پن، مایوسی اور دلچسپی کے خاتمے کا نام ہے۔ ایسے افراد اکثر کہتے ہیں کہ "کچھ کرنے کو دل نہیں کرتا”، "کچھ اچھا نہیں لگتا”، یا "زندگی میں کوئی مزہ نہیں رہا”۔ ماہرین اس کیفیت کو Anhedonia کہتے ہیں، جو کہ ڈپریشن کی ایک نمایاں اور سنجیدہ علامت ہے۔
کیا آپ کا بچہ خاموش ڈپریشن کا شکار ہے؟
ڈپریشن کے مریضوں میں یہ بوریت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہتی ہے، اور زندگی کے مختلف پہلوؤں — جیسے نیند، کھانے، سوشل تعلقات اور کام — کو متاثر کرتی ہے۔ اس قسم کی بوریت صرف وقت گزارنے یا مصروف ہو جانے سے ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ذہنی صحت کے ماہر کی مدد لینا ضروری ہوتا ہے۔
لہٰذا اگر بوریت کے ساتھ ساتھ آپ میں طویل مایوسی، خود اعتمادی کی کمی، دلچسپی کا خاتمہ، یا نیند و بھوک میں واضح فرق محسوس ہو رہا ہے، تو یہ عام بوریت نہیں بلکہ ڈپریشن کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
اس صورت میں خود کو تنہا نہ سمجھیں — بروقت مدد لینا، کسی قابل ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنا، اور اپنے خیالات کو کسی قریبی فرد کے ساتھ شیئر کرنا پہلا مثبت قدم ہو سکتا ہے۔
0 Comments